Dr. Abdul Qadeer Khan

6/recent/ticker-posts

بھوپال کا شہزادہ ڈاکٹر عبد القدیر خان

ڈاکٹر عبدالقدیر خان جہاں ایٹمی سائنسدان تھے وہاں شاعرانہ ذوق بھی رکھتے تھے، انہوں نے 13 اپریل 2012 کو اپنے ہی ایک شعر میں غمِ حیات بیان کر دیا:
گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیرؔ
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے
اتوار کی سہ پہر مارگلہ کے پہاڑوں پر گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے، چار سُو اندھیرا ہی اندھیرا تھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آج جہاں اسلام آباد کی فضا سوگوار ہے، وہاں مارگلہ کے پہاڑوں نے بھی محسنِ پاکستان کی رحلت پر سیاہ چادر اوڑھ لی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا جنازہ فیصل مسجد سے چند قدموں کے فاصلے پر ان کی رہائش گاہ 207 ہل روڈ سے اٹھایا گیا تو آسمان بھی ایسا رویا کہ پورا اسلام آباد جل تھل ہو گیا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے آج آسمان بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دنیا سے اٹھ جانے پر پر رو رہا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی نماز جنازہ کی ادائیگی تک عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر فیصل مسجد کی طرف رواں دواں رہا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پورا راولپنڈی اور اسلام آباد فیصل مسجد کی جانب امڈ آیا ہے۔ 

سیکورٹی کے انتظامات سے اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ شاید صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور دیگر اہم شخصیات بھی جنازے میں شرکت کریں گی لیکن وہ آئے اور نہ ہی کوئی وی وی آئی پی آیا صرف وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بہ نفس نفیس موجود تھے کیونکہ ان کی نگرانی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تدفین ہونا تھی البتہ کراچی سے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے خصوصی طور پر شرکت کر کے ڈاکٹر خان سے اپنی محبت کا اظہار کر دیا۔ اسی طرح اپوزیشن کے کسی بڑے لیڈر نے بھی جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ جماعت اسلامی کے وفد نے لیاقت بلوچ کی قیادت میں شرکت کی۔ بظاہر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کے باوجود جنازہ کے وقت بدنظمی دیکھنے میں آئی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ کوئی غیرمعمولی انتظامات نہیں کر سکی، لاؤڈ اسپیکرز کا کوئی مناسب انتظام نہیں تھا جس کے باعث متعدد لوگوں کو نماز جنازہ کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 

جنازہ سے قبل سرکاری طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تدفین فیصل مسجد کے احاطہ میں جنرل ضیاء الحق کی قبر کے قریب کی جائے گی، دوسری طرف ایچ 8 قبرستان میں قبر کی کھدائی کر دی گئی تھی۔ کنفیوژن کی فضا تھی لیکن جنازے سے کچھ دیر قبل کہا گیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی فیملی کی خواہش کے مطابق تدفین کی جگہ کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ایک خط کا بھی سہارا لیا گیا جس میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خود ایچ 8 قبرستان میں تدفین کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے بعد اپنے گھر پر مقیم تھے، انہوں نے اپنی وفات سے ایک ہفتہ قبل ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اپنی تدفین کے لئے جگہ کا انتخاب کیا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اپنی روانگی کا پیغام مل چکا تھا۔ انہوں نے اپنی فیملی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ یہ درست ہے ڈاکٹر خان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا لیکن ان کے جنازے میں صدر و وزیراعظم سمیت اہم شخصیات کی کمی محسوس کی گئی۔ 

البتہ عوام نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جس شان سے رخصت کیا اور اپنے جذبات کا اظہار کیا اس سے ان پر 18 سال قبل لگائے گئے تمام الزامات دھل گئے۔ وہ لوگ بھی ان کی شان میں قصیدے پڑھ رہے تھے جو ایک وقت میں ان پر نیوکلیئر ٹیکنالوجی برآمد کرنے اور مال بنانے کا الزام عائد کر رہے تھے۔ عوام کی طرف سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں بھرپور شرکت نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کی سچائی کی گواہی دے دی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات سے نہ صرف ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے بلکہ عالم اسلام اپنے ایک خیر خواہ کی سرپرستی سے محروم ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی جوانی ایٹمی پروگرام کے لئے وقف کر دی اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد سیکورٹی کے نام پر 18 سال قید میں گزار دیے۔ لاکھوں ڈالر کمانے والا شخص محض پاکستان کو دفاعی لحاظ سے مستحکم بنانے کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑ کر وطن واپس آگیا۔ 

چند ہزار روپوں کی سرکاری ملازمت اختیار کر لی ان کی تنخواہ اور پنشن اتنی کم تھی جسے وہ کسی کو بتاتے ہوئے بھی شرماتے تھے۔ جب امریکہ نے ایران اور لیبیا کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کے لئے کارروائی شروع کی تو پرویز مشرف نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایران اور لیبیا کو نیوکلیئر ٹیکنالوجی دینے کا الزام ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر لگا دیا۔ میرا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ 36 سال کا تعلق تھا میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بارہا یہ پوچھا کہ آپ نے پرویز مشرف کے دباؤ اور چوہدری شجاعت حسین کے اصرار پر کیوں یہ الزام اپنے سر لے لیا؟ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کو بچانے کے لئے ایٹمی ٹیکنالوجی برآمد کرنے کا الزام قبول کر لیا مجھے کہا گیا کہ اگر میں الزام قبول نہ کرتا تو پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا، اس میں حقیقت کیا ہے سب کو معلوم ہے، انہوں نے ایک ہی جملے میں حقیقت بیان کر دی کہ میں تو ایک سرکاری ملازم تھا مجھے اوپر سے جو حکم ملا وہ کر دیا اس کے سوا میرا کوئی رول نہیں تھا۔ بھلا میں سینٹری فیوج مشینیں اٹھا کر دنیا میں فروخت تو نہیں کر سکتا تھا۔

میں سینٹری فیوج سسٹم آنکھ چرا کر کسی ملک پہنچا سکتا تھا اور پھر یہ کہ سینٹری فیوج ٹیکنالوجی اتنی چھوٹی چیز بھی نہیں کہ میں نے جا کر کسی کی جیب میں ڈال دی میری موت کے بعد بھی میرے ساتھ کام کرنے والے گواہی دیں گے کہ میں بے قصور تھا۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا بس یہی میرا’’جرم ‘‘ ہے پرویز مشرف کا بس چلتا تو مجھے امریکہ کے حوالے کر دیتا۔ میں جب بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کرتا یا ان سے فون پر بات ہوتی وہ اس بات کا گلہ کرتے کہ وہ اپنی مرضی سے جی سکتے ہیں اور نہ مر سکتے ہیں ۔ مجھ سے ایک آزاد شخص کے طور پر زندہ رہنے کا حق چھین لیا گیا ہے وہ کسی سے مل سکتے تھے اور نہ ہی کسی کو ان سے ملنے کی اجازت تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر خان سے کسی نہ کسی بہانے ملنے کی کوشش کی جاتی تو اس شخص کو ہل روڈ پر روک لیا جاتا جس کے ہاتھ میں کیمرہ ہوتا یا اس پر اخبار نویس ہونے کا شک ہوتا۔

اسے ڈاکٹر خان کی رہائش گاہ کے قریب نہیں پھٹکنے دیا جاتا تھا ڈاکٹر صاحب سے میری تین چار ملاقاتیں ان کے گھر پر ہوئیں، اسی طرح دو تین ملاقاتیں ان کے دفتر میں ہوئی ہیں البتہ یوم تکبیر یا سالگرہ پر بھجوائے جانے والے پھول ان تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی تھی میں نے ان کے اعزاز میں راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب میں پہلی تقریب پذیرائی منعقد کی اس کے بعد بھی مزید تین چار تقاریب منعقد کیں جن میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا ڈاکٹر صاحب پوری زندگی حکمرانوں کے طرز عمل پر نالاں رہے، انہیں امریکہ کے حوالے کیا جارہا تھا لیکن قومی سلامتی کے اداروں نے انہیں امریکہ کے حوالے نہیں کرنے دیا۔ پرویز مشرف نے ان کے تمام اعزازت واپس لینے کا اعلان تو کیا لیکن یہ اعزازات ان کے پاس ہی رہے مختلف حکومتوں میں شامل لوگ ڈاکٹر خان کے پاس بیٹھنا عزت افزائی سمجھتے تھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 18 سال قید تنہائی کی اذیت برداشت کی جب ان پر غداری کا الزام عائد کیا گیا انہوں نے برملا یہ بات کہی کہ میرا تعلق بھوپال سے ہے جہاں کبھی کوئی غدار پیدا ہوا ہے اور نہ ہی قادیانی ۔ 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شدید علالت بارے فیس بک پر پوسٹیں چلائی جاتی تھیں جب کوویڈ 19 کے باعث ہسپتال میں داخل ہوئے ہوئے تو بعض عناصر نے ان کی موت کی خبر چلا دی حالانکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صحت یاب ہو گئے تھے جس پر انہوں نے فوری طور پر وڈیو پر پیغام ریکارڈ کرایا اور کہا کہ وہ اللّٰہ تعالی کے فضل و کرم سے صحت یاب ہیں‘‘ وہ صحت یاب ہو کر گھر آ گئے لیکن 10 اکتوبر 2021 کی صبح کو خون کی قے ہوئی جس کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ فیصل مسجد کے احاطہ میں ان کا مزار تو نہ بنا، ایچ-8- قبرستان میں ان کی قبر پر پھول چڑھانے والوں کی قطاریں لگی رہیں اور لوگ اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے رہے۔ میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اہلیہ ہینی کوبھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے شوہر کو آخری وقت تک اکیلے نہیں چھوڑا پاکستان کی شہریت اختیار کر لی اور مشکل وقت میں ایک بہادر بیوی کی طرح ساتھ دیا۔ 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہینی جیسی بیوی نہ ملتی تو ممکن ہے وہ بہت جلد ہمت ہار جاتے ہیں وہ آج اس دنیا میں نہیں ہیں، ان کے اثاثوں کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرنے والوں کو اب مایوسی ہو گی انہوں نے اپنے پیچھے دو گھر چھوڑے ہیں، ایک 207 ہل سائیڈ روڈ پر ہے جہاں انہوں نے اپنی زندگی قید میں گزار دی دوسرا مکان بنی گالہ میں ہے جہاں وہ منتقل نہیں ہو سکے یہ مکان انہوں نے اپنی بڑی صاحبزادی ڈاکٹر بینا خان کو گفٹ کر دیا تھا جو ان کی اکلوتی بیٹی تابندہ خان کے زیر استعمال ہے البتہ اس ملک کے حکمران بنی گالہ کے مکین بن گئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا جب بھی بات کرتے۔ 28 مئی 1998ء کو ہونے والے ایٹمی دھماکوں سے ایک روزقبل انہوں نے اس بات کا گلہ کیا کہ ان کو ایٹمی دھماکوں کے مقام چاغی پہاڑ تک پہنچنے کے لئے ہوائی جہا ز فراہم نہیں کیا جا رہا کیونکہ کچھ لوگ ان سے ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ چھیننا چاہتے ہیں لیکن اس وقت کی عسکری قیادت نے ان کے کوئٹہ پہنچنے کے لئے خصوصی جہاز فراہم کر دیا۔ 

اس روز میں نے اور سہیل عبدالناصر نے 28 مئی کو ہونے ایٹمی دھماکوں کی خبر فائل کی جو میرے صحافتی کیرئیر میں کریڈٹ ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان خان کی وفات پر ہر اس شخص نے ان کے ملک کو ایٹمی قوت بنانے میں کلیدی کردار کا اعتراف کیا جو ان کو میٹرالوجسٹ ہونے کا طعنہ دیتا تھا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے بھی ان کی ایٹمی قوت کے لئے خدمات کو سراہا ہے۔ فیض آباد انٹرچینج میں چاغی پہاڑ کا مڈل نصب تھا جسے بوجوہ ہٹا کر ایف -9- منتقل کر دیا گیا اب تو یوم تکبیر پر بھی کوئی بڑی تقریب منعقد نہیں ہوتی۔ میرا ڈاکٹر خان سے اکثر فون پر رابطہ رہتا تھا ، میں ان سے ٹیلی فون پر ہی انٹرویو لے لیتا تھا۔ میں نے ان کی زندگی کا آخری انٹرویو بھی وٹس ایپ پر لیا ۔ ڈاکٹر خان نے پاکستان کو ایٹمی قو ت بنا دیا اورکسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ، انہوں نے ضیاء الحق کے اقتدارمیں چھ سال کے اندر پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا لیکن بین الا قوامی دبائو کے پیش نظر کسی حکمران کو دھماکہ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی اس بات کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے جنہوں نے امریکی صدر بل کلنٹن کی 5 ٹیلیفون کالز اور 500 ارب ڈالرز کی پیشکش نظر انداز کر کے ایٹمی دھماکے کر دئیے۔ 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات میں مطلوبہ کارخانے لگانے کا کہہ کر ہالینڈ واپس چلے گئے ان کی واپسی پر کارخانے لگ گئے پھر ایٹمی پلانٹ کے لئے جگہ کا انتخاب کیا گیا چاغی کے پہاڑ میں میں جو ایٹمی دھماکوں کے لئے ضیا الحق کے دور میں ہی سرنگ بنالی گئی تھی ، مجھے بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے میں وہاں سے پہاڑ کا وہ ٹکڑا بھی اٹھا لایا جو دھماکے کے وقت پہاڑ سے ٹوٹ کر گرا  تھا جو ایٹمی توانائی کمیشن نے ہمیں محفوظ بنا کر دے دیا۔ میں جب بھی ہل سائیڈ روڈ سے گزرتا ہوں میری نظر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو تلاش کرتی ہے اب وہاں ڈاکٹر عبدالقدیر خان تو نہیں لیکن ان کا پاکستان کو دیا ہوا ’’تحفہ‘‘ اس کے استحکام و سلامتی کا ضامن رہے گا۔

نواز رضا

بشکریہ روزنامہ جنگ

 

Post a Comment

0 Comments