Dr. Abdul Qadeer Khan

6/recent/ticker-posts

محسن کشی

پرویز مشرف دور، افواہیں زوروں پرکہ ڈاکٹر اے کیو خان کیخلاف کچھ ہونے والا، ان دنوں ڈاکٹر صاحب کا دفتر پرائم منسٹر سیکرٹریٹ میں تھا۔ ایک دن میں ان سے ملنے گیا، اسٹاف نے مجھے خلاف معمول ڈاکٹر صاحب کے دفتر سے ملحقہ کانفرنس روم میں بٹھا کر کہا، ڈاکٹر صاحب یہیں ملیں گے، تھوڑی دیر بعد ہلکے گرے رنگ کے سفاری سوٹ میں ملبوس ڈاکٹر صاحب آگئے، آتے ہی خلافِ معمول انہوں نے کانفرنس روم کے ٹی وی کی آواز اونچی کی۔ ایک کرسی گھسیٹ کر میرے قریب آکر بیٹھے، بڑی آہستگی سے حال احوال پوچھا، یہ سب دیکھ کر میں نے پوچھا، ڈاکٹر صاحب یہ احتیاط کیوں، آہستہ سے بولے، دفترمیں اس لئے نہیں ملا، ٹی وی کی آواز اس لئے اونچی کی، قریب آکر اس لئے بیٹھا، مجھ پر نظر رکھی جارہی، میرا سب کچھ کہیں سنا جارہا۔ 

ڈاکٹر صاحب جو پریشان، تھکے تھکے لگ رہے تھے، چند لمحے خاموش رہ کر بولے، ارشاد میاں، شکریہ تم آئے، پچھلے 5 دنوں سے مجھے تو کوئی ملنے ہی نہیں آیا، سب نے ملاقاتیں کینسل کر دی ہیں بلکہ اب تو یہ نوبت آگئی ہے کہ نہ کوئی فون کرتا ہے نہ میرے فون کا جواب دیتا ہے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا، سر ایسا کیوں؟ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب بولے، میاں سب کو پتا چل چکا کہ پرویز مشرف میرے خلاف ہو چکے، اب بھلا کوئی مجھے مل کر، فون کرکے اپنا نقصان کیوں کروائے گا، میں نے پریشان ہو کر پوچھا، سر یہ سب کیوں؟ بولے، یہ تو پتا نہیں کیوں، لیکن لگ رہا یہ مجھے گرفتار کر لیں گے، میں نے گھر بتا دیا ہے، دفتر سے ضروری سامان بھی گھر بھجوا دیا ہے، میں نے کہا، سر یہ کیسے ممکن کہ کوئی محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کو گرفتار کرے؟ ڈاکٹر صاحب ایک قہقہہ مار کر بولے۔ جب کم ظرفوں کو طاقت مل جائے تو پھر سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے اور پاکستان میں بھلا کب کسی نے محسنوں کی قدر کی، مجھے یاد اس دن میں کوئی گھنٹہ بھر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ رہا، انہوں نے ایسی ایسی باتیں، ایسی ایسی کہانیاں سنائیں کہ کانوں سے دھواں نکل آیا، باتوں باتوں میں ایک موقع پرانہوں نے بازو آگے کر کے کہا، ذرا ہاتھ لگاؤ، میں نے ہاتھ لگایا، بازو تپ رہا تھا، بولے ایک سو دو بخار ہے۔

میں نے کہا، سر آرام کریں، دکھی انداز میں بولے، اب آگے آرام ہی آرام ہے اور پھر دو دن بعد وہی ہوا، ڈاکٹر صاحب کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا، ان کا دفتر سیل کر دیا گیا اور ان کے اسٹاف سے تفتیش شروع ہو گئی، باقی آگے جو کچھ ہوا، ٹی وی پر معافی منگوانا، انہیں امریکہ کے حوالے کرنے کی کہانی، ظفراللہ جمالی کا کردار اور بہت کچھ یہ سب کو معلوم۔ یہ بھی سن لیں، دوست اور سینئر صحافی مظہر عباس بتاتے ہیں، پی ٹی وی ایوارڈز کی تقریب، ڈاکٹراے کیو خان آئے اور پہلی قطار میں ایک کرسی پر بیٹھ گئے، شیخ رشید تب وزیر اطلاعات، انہوں نے اسٹاف کو بھجوایا کہ پہلی قطار کابینہ ممبران کی، آپ پچھلی قطار میں جاکر بیٹھ جائیں، اسٹاف آیا اور تھوڑی سی بحث کے بعد ڈاکٹر صاحب کو پیچھے جا کر بیٹھنا پڑا، یہ بھی سنتے جائیے۔ دوست اور سینئر صحافی جاوید چوہدری ڈاکٹر اے کیو خان سے اپنی ملاقات کے احوال میں بتاتے ہیں کہ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا، آپ کا سب سے زیادہ دل کس نے دکھایا، جواب دیا، پرویز مشرف اور نواز شریف نے، نواز شریف مجھے صدر بنانے کا کہہ کر مکر گئے (بقول ڈاکٹر صاحب انہیں بعد میں پتا چلا کہ نواز شریف نے صدارت کا ’لارا‘ رانا بھگوان داس، سرتاج عزیز اور عبدالستار ایدھی کو بھی لگایا ہوا تھا)۔

ڈاکٹر صاحب نے کہا، نواز شریف نے مجھے صدر کیا بنانا تھا بلکہ انہوں نے مجھے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری سے بھی ریٹائر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، نواز شریف دور میں ایک دن میری زندگی کی کل جمع پونجی سے بنائے گھر کو سی ڈی اے کے بلڈوزر گرانے آگئے، میں نے تب کے وزیر داخلہ چوہدری شجاعت کو فون کر کے بتایا۔ وہ فوراً پہنچے اور آکر سی ڈی اے بلڈوزر کے آگے کھڑے ہو گئے، یوں میرا گھر گرنے سے بچ گیا، جاوید چوہدری نے پوچھا، آپ ٹی وی پر معافی مانگنے پر رضا مند کیوں ہوئے؟ جواب ملا، چوہدری شجاعت حسین جن سے میرے بہت اچھے مراسم تھے، ایک دن آئے، گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر بولے، امریکہ غصے میں، ملک مشکل میں، ملک کیلئے قربانی دیدیں اور یوں میں ملک وقوم کیلئے قربانی دیکر ملک وقوم کا ہی مجرم بن گیا۔ بتانے لگے، پرویز مشرف جب کرنل تھے تو کسی بات پر میں نے ان کی ڈانٹ ڈپٹ کر دی تھی، انہیں یہ بات کبھی نہ بھولی۔

باقی ڈاکٹر صاحب نے یہ تو کئی بار مجھے بھی بتایا کہ نوازشریف دھماکے کرنے کے حق میں نہیں تھے، ہم سب نے ان پر دباؤ ڈال کر دھماکے کرائے، مجھے اکثر کہتے، امریکی نائب وزیرخارجہ اسٹروب ٹالبوٹ کی کتاب پڑھو، اس میں لکھا ہوا کہ دھماکوں کے بعد وزیراعظم نواز شریف ان سے ملے تو بار بار کہا، سوری مجھ پر دباؤ تھا، دھماکے کر دیئے، میں بہت شرمند ہ ہوں کہ صدر کلنٹن کی بات نہ مانی، سوری۔ یہ چند مثالیں، محسن پاکستان سے محسن کشی کی، بیسیوں واقعات اور بھی، یہی وجہ کہ دوست، سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے جب ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ آپ کو کوئی پچھتاوا بھی ہے تو ڈاکٹر صاحب کا جواب تھا۔ اس قوم کے لئے کام کرنے کا پچھتاوا ہے، ڈاکٹر صاحب کی یہی محسن کش قوم جو آج نقلی دکھی، جعلی سوگ منارہی، جب ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت تھا تب یہ سوئی رہی۔ اس قوم کا حال یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے 2012 میں سیاسی جماعت ’تحریک تحفظ پاکستان‘ بنائی، پہلے تو کوئی ٹکٹ لینے کو تیار نہ ہوا، جو چند امیدوار ڈاکٹر صاحب نے کھڑے کئے ان کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں، یاد آیا، ایک بار عبدالستار ایدھی بھی الیکشن میں کھڑے ہوئے، ان کی بھی ضمانت ضبط ہو گئی تھی۔

اب یہ چھوڑیئے کہ ڈاکٹر صاحب کے جنازے میں وزیراعظم، صدر، وزرائے اعلیٰ، اپوزیشن لیڈر، زرداری صاحب، بلاول بھٹو سمیت کوئی بڑاکیوں نہ آیا، اس با ت کو بھی چھوڑیئے کہ پرویز مشرف کے قید کئے ڈاکٹر صاحب کو پی پی، ن لیگ، تحریک انصاف کی حکومتوں میں بھی کیوں آزادی نہ ملی۔ اس با ت کو بھی رہنے دیں کہ 17 سال گھر میں نظر بند ڈاکٹر صاحب کو عدالتوں سے بھی انصاف کیوں نہ ملا، ملاحظہ یہ کریں کہ ہم کتنے بڑے جھوٹے، کتنے بڑے منافق، کتنے بڑے مردہ پرست، جب ڈاکٹر صاحب زندہ تھے تو قیدی، مرے تو قومی پرچم سرنگوں، قومی سوگ کا اعلان، تابوت پرچم میں لپٹا ہوا، سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن۔ پہلی بات، کیا عزت کروانے کیلئے مرنا ضروری، دوسری بات، یہ پرچم سرنگوں تب کیوں نہ ہوا، قومی سوگ تب کیوں نہیں جب ڈاکٹر صاحب سے ٹی وی پر معافی منگوائی گئی اور جب قیدی محسن پاکستان انصاف کیلئے عدالتوں میں دھکے کھا رہا تھا۔

مرنے کے بعد پرچم سرنگوں ہونے، قومی سوگ اور سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کرنے کا ڈاکٹر صاحب کو کیا فائدہ، اگر یہ عزت ہے تو یہ عزت جیتے جی کیوں نہیں۔ اسی عزت کیلئے تو وہ ترستے ترستے چلے گئے، تیسری بات، ڈاکٹر صاحب کی وفات پر صدر عارف علوی کا دکھ بھر ا پیغام آیا، ایوان صدر میں فارغ بیٹھے علوی صاحب سے پوچھنا وہ سوا 3 سال سے صدر، کتنی بار ڈاکٹر صاحب سے ملنے ان کے گھر گئے، وزیراعظم عمران خان کا غم سے بھرا ٹوئٹ پڑھا۔ وزیراعظم سے پوچھنا وہ سوا تین سال سے وزیراعظم کتنی بار ڈاکٹر صاحب کا حال احوال پوچھا، تدفین انچارج تھے شیخ رشید، ان سے پوچھنا سوا تین سال سے وہ وزیر، کبھی ٹیلی فون پر بھی ڈاکٹر صاحب کی خیر، خیریت دریافت کی، اللّٰہ کی شان ثمر مبارک مند بھی دکھی، یہی ثمرمبارک مند تھے جو ایٹمی دھماکوں کے بعد کریڈٹ لینے کے چکر میں ڈاکٹر صاحب سے لڑائیاں لڑتے رہے۔ باتیں بہت کرنے والی مگر یہ کہہ کر بات ختم کرنا چاہتا ہوں کہ اگر چند لمحے مل جائیں تو ٹھنڈے دل ودماغ سے یہ ضرور سوچئے گا کہ بھارت نے اپنے محسن ڈاکٹر عبدالکلام کے ساتھ کیا سلوک کیا، اور ہم نے اپنے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

باقی اپنے وزیراعظم کی توجہ نریندر مودی کی ڈاکٹر عبدالکلام کی میت والے تابوت کو سیلوٹ مارنے کی طرف نہیں دلاؤں گا، کیونکہ مجھے پتا ہزارہ برادری کی لاشیں، جنازے ہوں، نعیم الحق کا جنازہ ہو یا اے کیوخان کا جنازہ، نجانے کیوں وزیر اعظم کسی جنازے میں نہ آئے۔ یہ سب چھوڑیے بس کہنا یہ جو قومیں اپنے محسنوں کی زندگی میں رسوائیاں، مرنے کے بعد جعلی عزتیں دیتی ہے، اس قوم سے بڑی محسن کش قوم اورکوئی نہیں ہوتی۔

ارشاد بھٹی

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments