ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے جب میں ملنے آیا تو میں یہ سمجھ کر آیا تھا کہ شاید لاہور ہائی کورٹ کا جو فیصلہ ہےاُس کے تحت وہ ایک آزاد شہری ہوں گے لیکن اسلام آباد میں واقع اُن کی رہائش گاہ پہنچا تو مجھے جون ایلیا کا وہ شعر یاد آگیا:؎ اب جو رشتوں میں بندھا ہوں تو کھلا ہے مجھ پر کب پرند اُڑ نہیں پاتے ہیں پروں کے ہوتے یہ کوئی دس سال پُرانی بات ہے جب میں ایک نجی چینل پر پروگرام کرتا تھا اور کئی یادگار انٹرویو کئے مگر جو مشکل مجھے ڈاکٹر صاحب سے ملنے اور انٹرویو کرنے میں پیش آئی کسی اور میں نہیں آئی۔ گھر سے کچھ فاصلے پر گاڑی روکی۔ ’’سر کہاں جارہے ہیں‘‘۔ ایک سادہ لباس والے نے پوچھا۔ ’’بھائی ، ڈاکٹر صاحب سے ملنے جارہا ہوں۔ آ پ کو پیغام مل گیا ہو گا‘‘۔ پھر گیٹ کے باہر بھی اسی قسم کے سوال جواب۔ ڈاکٹر صاحب نے استقبال کیا اور انٹرویو اُن کے اسٹڈی روم میں کوئی دو گھنٹے جاری رہا۔ ختم ہوا تو کچھ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ بھی گفتگو ہوئی۔ جاتے ہوئے کہنے لگے،’’واپسی میں بھی سوالات ہوں گے۔ ’’ایسا کرو کیسٹ یہیں چھوڑ جائو میں اپنی گاڑی میں پہنچا دیتا ہوں‘‘۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ باقی باتیں پھر کبھی اُس یادگار انٹرویو کے اقتباسات حاضر ہیں۔
س: ڈاکٹر صاحب، پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اے کیو خان: دیکھئے اصل کہانی تو 18 مئی 1974 سے سمجھ لیجئے۔ اس سے پہلے جب 1971 میں پاکستان کا ایک حصہ ہم سے جدا ہوا تو میں اُس وقت بلجیم میں تھا۔ 16 دسمبر 1971 کو میں بہت رویا کچھ دن کھانا بھی نہیں کھا سکا۔ وقت کے ساتھ ساتھ زخم تو مندمل ہو گیا لیکن وہ درد ہمیشہ قائم رہا۔ میں پھر ہالینڈ چلا گیا اور وہاں جس کمپنی میں کام کیا وہ جدید ٹیکنالوجی سے مزین تھی اور 1972 سے افزدوگی پر کام کر رہی تھی۔ 18 مئی 1974 کو بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر دیا۔ مغربی ممالک نے زبانی جمع خرچ کی طرح کا ردعمل کا اظہار کیا اور تاثر دیا جو ہو گیا سو ہو گیا۔ البتہ ایک شخص تھا جو اس دھماکے سے پہلے ہمیں بھی اور دنیا کو بھی اپنے بیانات کے ذریعے احساس دلا رہا تھا کہ بھارت ایٹم بم بنا رہا ہے مگر کسی نے دھیان نہیں دیا وہ تھا ذوالفقار علی بھٹو۔ میں نے بھٹو صاحب کو خط لکھا اور واضح کیا کہ اگر ہم نے کچھ نہیں کیا تو اللّٰہ نہ کرے دس سال میں پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔
میں آپ کی مدد کرنے کو تیار ہوں۔ میں حیران ہوا جب انہوں نے میرے خط کا نہ صرف جواب دیا بلکہ مجھے فوراً پاکستان آنے کو کہا۔ میں پہلی بار کراچی میں اُن سے ملا۔ میری والدہ اور بہن بھائی سب کراچی میں تھے۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ ہم اِس پروگرام پر کام کر سکتے ہیں۔ بھٹو صاحب نے کہا ڈاکٹر صاحب ہم فرانس سے معاہدہ کرنے والے ہیں اور وہی پروسیسنگ پلانٹ کے ذریعے اُس کا ایندھن نکالیں گے۔ میں نے کہا جس نے بھی آپ کو یہ پلان دیا ہے وہ غلط ہے۔ میں نے جب ان کو اصل حقیقت بتائی تو ان کے کان کھڑے ہوئے اور وہ پریشان ہو گئے۔ میں نے کہا آپ ری پراسیسنگ پلانٹ خریدنا چاہ رہے ہیں وہ بھی آئی اے اے کی زیرنگرانی ہو گا اور فرانس کے انجینئرز تعینات ہوں گے۔ آپ پریشان نہ ہوں ہم یہ کام یہاں کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے کام شروع کر دیں میں آتا جاتا رہوں گا اور جو مدد درکار ہو گی کروں گا۔ میں واپس چلا گیا اور جنوری 1975 یعنی ایک سال بعد واپس آیا تو بھٹو صاحب سے ایک اور ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ واپس نہ جائوں۔ ’’دیکھئے آپ نے خود کہا ہے کہ ملک کے حالات خراب ہیں اور ہمیں آپ کی ضرورت ہے‘‘۔
میں نے کہا ٹھیک ہے مگر مجھے اپنی بیگم سے مشورہ کرنا ہے۔ میں نے اہلیہ سے پوچھا جس کا تعلق ہالینڈ سے ہے وہاں اُن کے ضعیف والدین تھےاوروہ اُن کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ میرے پوچھنے پر کہنے لگی ’’کیا باتیں کر رہے ہو۔ ہم یہاں چھٹی پر آئے ہیں، وہاں اتنی اچھی نوکری ہے، تمہاری اچھی تنخواہ ہے بچوں کی تعلیم ہے۔‘‘ میں نے یہ سنا تو کہا ٹھیک ہے ہم واپس جارہے ہیں تو اچانک اُس کی آواز بلند ہوئی ’’Holdon on let me solve it‘‘ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر کہا ’’دیکھو تم نے آج تک مجھ سے کوئی بات جھوٹ نہیں کہی اور مجھے تم پر فخر ہے کہ ایک تم نے ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کی ہے اور دوسرے جھوٹ نہیں بولا۔ اب ایمانداری سے بتائو اگر ہم یہاں رک جائیں تو کیا تم پاکستان کے لئے کچھ کر پائو گے کوئی اچھا کام‘‘۔ میں نے کہا ایمانداری سے بتا رہا ہوں یہ کام میرے سوا کوئی نہیں کر سکتا ۔ اُس نے پُراعتماد طریقہ سے کہا ۔ ’’ٹھیک ہے پھر ہم نہیں جاتے‘‘۔
سوال : تو اس پروگرام میں آ پ کو بیگم کی مکمل حمایت رہی؟ اے کیو خان: جی ہاں۔ وہ سچ میں میری قوت بنیں۔ کہنے لگیں ، ’’ٹھیک ہے میں واپس جاتی ہوں اور اپنے والد کو سمجھاتی ہوں‘‘۔ سچ کہوں اگر اُس کی سپورٹ نہ ہوتی تو میرے لئے بڑی مشکل صورت حال پیدا ہو جاتی۔ بعد میں مشرف نے جو کچھ کیا اُس سے وہ بہت مایوس تھی۔ وہ دو ماہ کے لئے واپس گئی اور اپنے والد کو سمجھا کر واپس آگئی۔ شروع کا وقت بہت مشکل تھا۔ رہنے کی جگہ نہیں تھی۔ ایک چھوٹا سا گھر کرائے پر لیا نہ پردے تھے نہ فرنیچر۔ بہرحال کام شروع کیا۔ صبح سات بجے جاتا اور رات آٹھ بجے تک واپسی ہوتی۔ چار پانچ دوستوں سے مل کر کام شروع کیا جن میں ایک کھوکھر بھی تھا۔ لاہور کا پڑھا ہوا میکینکل انجینئر۔ ہالینڈ سے ٹریننگ بھی لی تھی مگر ذرا کھسکا ہوا تھا۔ ہر وقت کسی نا کسی سے لڑتا رہتا پر میری بہت عزت کرتا۔ پھر کچھ رکاوٹیں آنا شروع ہوئیں۔ ایک سوئی کے لئے بھی منیر احمد خان کی اجازت لینی پڑتی تھی۔ مجھے مشیر کے طور پر رکھا گیا تھا۔ اور اس وقت میری تنخواہ تین ہزار روپے تھی۔ جو پہلی بار چھ ماہ بعد ملی۔
میری عادت تھی تیز کام کرنے کی یہاں بہت تاخیر یا دیر لگتی تھی ہر کام میں۔ آخر کار تنگ آکر میں نے منیر صاحب کی لکھ کر شکایت کی کہ جس آدمی کو آپ نے انچارج بنا کر بھیجا ہے اُسے کچھ نہیں آتا۔ مجھے اُن کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس سے مایوس ہو کر میں نے بھٹو صاحب کو خط لکھ کر ساری بات بتائی۔ بس یوں سمجھ لیں کہ جیسے پوری حکومتی مشینری میں آگ سی لگ گئی ہو۔ دوسرے ہی دن جنرل امتیاز کا فون آیا کہ آپ لاہور واپس آجائیں۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے بتایا کہ وہ جنرل امتیاز کے کہنے پر لاہور چلے گئے۔ پہلے دن ملاقات میں سیکرٹری خارجہ جناب آغا شاہی بھی موجود تھے۔ میں نے دونوں کو ساری بات بتا دی کہ پروگرام میں کیا مشکلات آ رہی ہیں۔ دوسرے روز کی ملاقات میں سیکرٹری فنانس اے جی این قاضی اور سیکرٹری ڈیفنس غلام اسحاق شریک تھے۔ سب نے تجویز دی کہ منیر احمد خان کو ہٹا کر مجھے چیئرمین بنا دیا جائے۔ میں نے کہا یہ بہت غلط ہو گا کیونکہ پورے یورپ کو پتا ہے کہ میں اس فیلڈ میں کام کر رہا ہوں ۔ ریڈ لائٹ جل جائے گی۔
پھر ڈاکٹر علی احمد خان کا نام آیا جس پر میں نے کہا ان کی شہرت تو اچھی ہے لیکن ان کا تجربہ زراعت کا ہے۔ آپ بس کسی کو بنا دیں مجھے صرف فری ہینڈ چاہئے۔ اے کیو خان انتہائی دلچسپی سے اور سوچ سوچ کر جواب دے رہے تھے۔ کہنے لگے، طے ہوا کہ ایک میٹنگ اسلام آباد میں ہو گی۔ میں ان دنوں ایف 8 میں رہتا تھا ۔ میں گاڑی لے کر نکلا تو فارن آفس کا راستہ بھول گیا۔ بڑی مشکل سے پہنچا۔ وہاں بتایا گیا کہ بھٹو صاحب نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک بورڈ بنے گا جس میں غلام اسحاق خان، اے جی این قاضی ہونگے اور آغا شاہی سپروائز کریں گے۔ جنرل امتیاز نے پھر بھٹو صاحب کو فون کر کے بتایا تو انہوں نے کہا ’’میری بات کرا دو ڈاکٹر صاحب سے‘‘ میں نے بات کی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا ’’ڈاکٹر صاحب آپ مطمئن ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’شکریہ! بس مجھے آزادانہ کام کرنے دیا جائے‘‘۔ کچھ دنوں بعد ایک میٹنگ میں ضیاء الحق بھی موجود تھے اور منیر احمد بھی۔ بھٹو صاحب نے واضح کیا کہ اس بورڈ کو وہی اختیار حاصل ہو گا جو وزیر اعظم کو ہے۔
سوال: کیا بھٹو بہت جلدی میں تھے؟ اے کیو خان: جی جی۔ وہ بہت سنجیدہ تھے، اُن جیسا میں نے کوئی اور نہیں دیکھا۔ ان کی سیاست میں وڈیرہ پن اپنی جگہ لیکن میری نظر میں وہ پاکستان کو حقیقتاً آزاد، خود مختار اور طاقتور دیکھنا چاہتے تھے ایک بار میں نے بھٹو صاحب سے کہا کہ سر آرمی کور آف انجینئر کی ایک ٹیم دے دیں کہنے لگے ’’کیوں؟‘‘ میں نے کہا، پاکستان میں سول ورکس میں گڑبڑ بہت ہے۔ اس وقت جنرل ضیاالحق وہاں موجود تھے۔ بھٹو نے کہا جنرل صاحب آپ اس کی نگرانی کریں وہ فوراً تیار ہو گئے۔ پھر خان صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ دوسرے دن جنرل زاہد علی اکبر شور مچاتے ہوئے آئے ’’خان صاحب مجھے کہاں پھنسوا دیا میں تو سپاہی ہوں‘‘۔ میں نے جواب دیا ہم نے آپ کو بارڈر پر جانے سے بچا لیا۔ یہ کام زیادہ اہم ہے۔ پھر سائٹ کی تلاش شروع کی۔ ایک شاکر صاحب ہوتے تھے اسمال ڈیم کے ڈائریکٹر تھے۔ انہوں نے کہا کہوٹہ کے پاس بھی ایک جگہ ہے وہ بھی دیکھ لیں۔ مجھے وہ جگہ پسند آئی۔ پہاڑی کے اندر تھی اور خاصی محفوظ بھی لگ رہی تھی۔ جنرل اکبر نے کہا ہیلی کاپٹر سے جگہ کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ دوسرے دن وہ جنرل فضل مقیم کے پاس گئے۔ وہ اس زمانےمیں ڈیفنس سیکرٹری تھے۔ انہوں نے فوراً درخواست پر دستخط کر دیے۔
میں نے جنرل زاہد سے کہا کہ یہاں جو لوگ رہتے ہیں انہیں نہ صرف متبادل جگہ دیں گے بلکہ نوکریاں بھی دیں گے۔ سب کو جگہ چھوڑنے پر دو گنا سے زیادہ قیمت دی، یہی وجہ ہے کہ پچاس سال گزرنے کے باوجود منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم کے برخلاف کہوٹہ کے رہائشیوں کی جانب سے کوئی متنازع بات سامنے نہیں آئی۔ میں نے اپنے ہاتھ سے سارے نقشے بنانا شروع کیے۔ جنرل اکبر نے عمارت کا کام شروع کیا۔ بہت سادہ عمارت ڈیزائن کی۔ ایک عمدہ آرکیٹیکٹ اقبال والہ کو کنٹریکٹ دیا۔ جب عمارت اپنے اختتام پر تھی توبھٹو صاحب نے الیکشن کا اعلان کر دیا۔ سوال: جب بھٹو نے الیکشن کا اعلان کیا تو آپ کو تعجب ہوا؟ اے کیو خان: جی ان سے کہا کہ ابھی ایک سال باقی ہے جلدی کیوں کر رہے ہیں۔ مگر انہیں قوی امید تھی کہ وہ بھاری اکثریت سے جیت جائیں گے۔ پھر جو ہوا سب کے سامنے ہے۔ بہر حال مارشل لا لگ گیا۔ ضیا الحق مصروف ہو گئے مگر انہوں نے بھٹو کے نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی ضامن نقوی کو ہمارا ایڈوائزر لگا دیا۔ 1979ء تک اس پروجیکٹ کا کسی کو پتا نہیں تھا۔
اسی سال ہم نے لندن کی ایک کمپنی کو آرڈر دیا تھا، وہاں بونس کے چکر میں ہڑتال ہو گئی۔ وہاں کا ممبر پارلیمنٹ ان سے مذاکرات کرنے گیا۔ ہوا یوں کہ ملازمین نے اسے بتایا کہ پاکستان سے بڑا آرڈر آیا ہے۔ مگر یہ ہمیں بونس نہیں دے رہے۔ فرلنگ کو شبہ ہوا کہ یہ تو سینٹری فیوج کے لئے استعمال ہوتے ہیں اس نے الارم بجا دیا مگر اندازہ نہیں تھا کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟اسی دوران فرانس سے معاہدہ ٹوٹ گیا کیونکہ پہلی بار اس قسم کی خبریں آنا شروع ہو گئیں مگر ہمارا کام جا ری رہا کیونکہ دنیا کو علم نہیں تھا۔ جب بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی تب ایک نیا بحران شروع ہو گیا۔ سوال: آپ نے کوشش کی بھٹو کو بچانے کی ؟ اے کیو خان: میں نے بہت کوشش کی۔ دراصل میں ضیا الحق سے کھل کر بات کر لیتا تھا۔ مذاق بھی چلتا تھا لہٰذا کبھی کبھار لبرٹی لے لیتا تھا۔ مجھے یاد ہے ایک بار میں اور جنرل نقوی ان کے ساتھ بیٹھے تھے ضیا بادام بہت کھاتے تھے اس دن بھی کھا رہے تھے میں نے ازراہ مذاق کہا ضیاء صاحب ہم بھی بہت محنت کرتے ہیں فوراً بادام آگئے۔
میں نے موقع مناسب جانا اور ان سے کہا کہ بھٹو کو پھانسی نہ دیں اس کے برے اثرات ہونگے پھر ترکی کی مثال دی کہ قوم تقسیم ہو گئی۔ وہ مذاق میں ٹال گئے۔ میں نے بعد میں شیخ زائد کو بھی پیغام بھجوایا کیونکہ ان کے بھٹو سے اچھے تعلقات تھے ان کا جواب آیا کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں۔ میں خفیہ طور پر ترکی بھی گیا۔ صدر بلندایجوت سے ملاقات طے نہیں تھی۔ بہت مصروفیت کے باوجود انہوں نے کچھ وقت دیا اور میری درخواست پر کہا کہ وہ ایک وفد بھیج رہے ہیں جن کے نام بھی مجھے دیے۔ مگر یہ تمام کوششیں ناکام رہیں۔ 4 اپریل 1979 کو پھانسی ہو گئی۔مجھے بہت دکھ ہوا۔ تاریخ میں ایک خونی داستان رقم ہو گئی جس کا خمیازہ ہم اب تک بھگت رہے ہیں اگر سعودی عرب کے کہنے پر مشرف نواز شریف کو بھیج سکتے تھے تو ضیا بھی مسئلے کا حل نکال سکتے تھے۔ بہرحال پھر روس نے افغانستان پر حملہ کر دیا اور پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی۔ ہم نے اپنا کام جاری رکھا اور 1984 کو میں نے جنرل ضیاء کو یہ خوشخبری سنا دی کہ ہم تیار ہیں۔ اب آپ کے اوپر ہے جب بھی فیصلہ کریں۔ شاید اس وقت حالات ایسے نہیں تھے لہٰذا فیصلہ نہیں ہوا۔
جب مئی 1998 میں بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کئے تو مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے کہا ہم تیار ہیں۔ کافی بحث و مباحثہ کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے اعلان کر دیا اور پاکستان اللّٰہ کے فضل سے دنیا کی ایٹمی طاقت بن گیا۔ دوستو مشرف دور کی کہانی پھر کبھی جس کا ڈاکٹر صاحب کو بہت دکھ ہے اور ا س سےزیادہ ان کی اہلیہ کو جو پاکستانی نہیں تھیں مگر اس مشن کی خاطر یہاں آئیں۔ جس دن ڈاکٹر صاحب سے PTV پر کسی اور کا لکھا ہوا بیان پڑھوایا گیا وہ ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ اس وقت کی قیادت کا اپنا موقف تھا مگر شاید کوئی اور بہتر حل نکل سکتا تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جنت میں اعلیٰ مقام دے۔ (آمین)
0 Comments